2 فروری 2015 - 06:32
یمن کی قومی کانفرنس اور تین روزہ ڈیڈ لائن

یمن کے بحران کے حل کے لئے قومی کانفرنس نے سیاسی گروہوں کو تین دن کی مہلت دی ہے-

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق یمن کی قومی کانفرنس نے اتوار کے دن ایک بیان جاری کرکے ملک میں ہرطرح کی مداخلت کی مذمت کی ہے اور بحران کے حل کے لئے یمن کے سیاسی گروہوں کو تین دن کی مہلت دی ہے- یمن کی قومی کانفرنس کے بیان میں آیا ہے کہ صدر اور حکومت کا پے در پے استعفی غیرملکی منصوبوں کے مفاد میں انجام پایا ہے اور اس کا مقصد یمن کو چھ صوبوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے دباؤ ڈالنا ہے-اس بیان میں بعض ملکی اور غیرملکی فریقوں کی جانب سے یمن میں تکفیری گروہوں کی موجودگی کی حمایت پر بھی تنقید کی گئی ہے- یمن کی قومی کانفرنس جو تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثي کی دعوت پر جمعے کو صنعا میں منعقد ہوئي تھی، اتوار کے دن اختتام پذیرہوگئی- درایں اثنا بعض عرب ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ یمن کی انصار اللہ تحریک نے ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے اپنا منشور پیش کیا ہے اور اس کی بنیاد پر عبوری دور کے لئے دو برس کی مدت کو مدنظر رکھاگیا ہے اس دوران ملک کا انتظام عبوری حکومت سنبھالے گي- اس منشور کے مطابق مستعفی وزیراعظم خالد بحاح نئی حکومت کی تشکیل تک اپنا کام جاری رکھیں گے- منشور میں انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی نامزدگی سے پہلے خودمختار الیکش کمیشن میں تحریک انصاراللہ اور تحریک حراک جنوبی، کے نمائندوں کی موجودگی کا مطالبہ کیا گیا ہے- دوسری جانب یمنی شہریوں نے اتوار کے دن صنعا میں سعودی عرب کے سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرکے اپنے ملک میں سعودی عرب کی مداخلت اور ملک کو چھ صوبوں میں تقسیم کئے جانے کی مخالفت کااعلان کیا- مظاہرین نے ان یمنی شہریوں کی آزادی کا بھی مطالبہ کیا جو سعودی جیلوں میں قید ہیں-

.......

/169